رمضان اور اس کی فرضیت

الحمد للہ رب العالمین و العاقبۃ للمتقین و الصلاۃ و السلام علی رسولہ الأمین و علی آلہ و صحبہ أجمعین ۔ اللہ تعالی نے سال کے بارہ مہینے مقرر کئے ہیں جیسا کہ فرمایا (إنَّ عِدَّۃَ الشُّہُورِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا)[التوبۃ : 36 ]’’ یقیناً اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے ‘‘ اور رمضان اسلامی سال کا نوا ں مہینہ ہے ، ان بارہ مہینوں میں اللہ نے اپنے بندوں پر مختلف قسم کی عبادات لازم کی ہیں جن میں روزہ رکھنا اتنی اہم عبادت ہے کہ اسے اسلام کے ان بنیادی پانچ کاموں میں سے ایک مقرر کیا گیا ہے جن پر اسلام کی عمارت قائم کی گئی ہے جیسا کہ عبد اللہ بن عمر رضي اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ عليہ و سلم) نے فرمایا : (( بُنِيَ الإسْلامُ عَلَی خَمْسٍ شَھَادَۃِ أنْ لَا إلٰہَ إلَّا اللّٰہُ وَ أنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ ، وَ إقَامِ الصَّلاۃِ ، وَ إیْتَاءِ الزَّکَوٰۃِ ، وَ الْحَجِّ ،وَ صَوْمِ رَمَضَانَ ))[ صحیح البخاري حدیث نمبر : 8] ’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے : یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ، نماز قائم کرنا ،زکوٰۃ ادا کرنا ،حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا‘‘ معلوم ہوا کہ رمضان کے روزے اس قدر اہم اور بندے کو اللہ کے نزدیک کرنے والے ہیں کہ انہیں اسلام کی بنیاد کے پانچ ستونوں میں سے ایک ستون شمار کیا گیا ہے اوررمضان کے روزوں کی فرضیت پر کتاب اللہ ،سنت رسول اللہ اور امت کا اجماعِ قطعی دلالت کرتا ہے ، کوئی بھی مسلمان اس کی فرضیت کا منکر نہیں ہو سکتا ۔

سال بھر میں جو عبادات اللہ نے اپنے بندوں پر لازم کی ہی ان میں سے کچھ عبادتیں مختصر اوقات میں انجام دی جا سکتی ہیں ،کچھ کئی کئی دنوں تک طول پکڑتی ہیں ، کچھ عبادات سال میں کئی بار جبکہ کچھ اور سال میں صرف ایک بار انجام دی جاتی ہیں اور حج ایک ایسی عبادت ہے جو پوری زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے ، چناچہ رمضان کے روزے ان عبادات میں سے ہے جو سال میں ایک ہی بار آتا ہے البتہ یہ کئی دنوں تک طول پکڑتا ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا :(أَیَّامًا مَعْدُوْدَاتٍ)[البقرۃ :184] ’’ یہ گنے چنے چند دن ہیں‘‘ پھر ایک اور جگہ پر ان دنوں کی مقدار بیان کی کہ یہ ایک مہینہ کے دن ہیں جیسا کہ فرمایا : ( شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ أُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ ۔۔۔ فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ )[البقرۃ :185] ’’ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے ۔۔۔ پس جو شخص تم میں سے یہ ماہ پائے تو وہ اس کے روزے رکھے ‘‘ چونکہ اسلامی مہینہ چاند نظر آنے یا چاند نظر نہ آنے کی صورت میں سابقہ مہینہ کی تعداد تیس دن مکمل ہونے سے شروع ہوتا ہے اور انتیس یا تیس دن ہوتا ہے ، جیسا کہ بروایت ابن عمر رضي اللہ عنہسے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ عليہ و سلم) نے فرمایا : (( إنَّا أُمَّۃٌ أُمِّیَّۃٌ ،لا نَکْتُبُ وَ لا نَحْسُبُ ، الشَّھْرُ ھٰکَذَا وَ ھٰکَذَا یَعْنِي مَرَّۃً تِسْعَۃً وَ عِشْرِیْنَ وَ مَرَّۃً ثَلا ثِیْنَ )) [صحیح البخاري حدیث نمبر :1913] ’’ہم امی امت ہیں نہ ہم لکھتے ہیں اور نہ حساب کرتے ہیں، مہینہ اتنا اور اتنا ہے یعنی کبھی 29 دن اور کبھی 30دن ‘‘ ۔

ماہ رمضان کا مہینہ نزول قرآن کی وجہ سے بہت ہی زیادہ فضیلت والا بنایا گیا ہے اور اس ماہ میں روزے رکھنا اسلام کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہی زیادہ فضیلت کا باعث ہے ، اس میں مسلمان کے لئے بہت سے فوائد ہیں ،یہ مہینہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کا بہت ہی اہم اور بڑا ذریعہ ہے چناچہ اس میں شیطان بند ہوتا ہے لہذا اللہ کی فرمانبرداری کا زیادہ سے زیادہ موقعہ ملتا ہے ۔ جیسا کہ ابو ہریرہ رضي اللہ عنہسے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ عليہ و سلم) نے فرمایا: (( إذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّۃِ وَ غُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَھَنَّمَ وَ سُلْسِلَتِ الشَّیَاطِیْنُ )) [صحیح البخاري حدیث نمبر :3277] ’’ جب رمضان داخل ہو جاتا ہے تو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کئے جاتے ہیں اور شیاطین ہتھکڑیوں میں قید کئے جاتے ہیں ‘‘ لہذا یہ بہت ہی بہترین موقعہ ہے جس سے ہمیں استفادہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ، آج جنت کے دروازے کھول دئے گئے ہیں تاکہ جنت کے شوقین لوگوں کی تڑپ مزید بڑھ جائے اور وہ زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کریں اور جہنم کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں تاکہ جہنم کی طرف دوڑنے والا وہاں کا دروازہ بند پاکر وہاں سے واپس لوٹے ،اور جنت کے درازے سے داخل ہو نے کی کوشش میں لگ جائے ، یہی وہ معنی ہے جسے نبی (صلی اللہ عليہ و سلم) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : (( وَ یُنَادِي مُنَادٍ : یَا بَاغِيَ الْخَیْرِ أَقْبِلْ وَ یَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ )) [ جامع الترمذي : حدیث نمبر: 682 ، امام البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے ] ’’ اور ایک پکارنے والا پکارتا ہے اے اچھائی (جنت) ڈھونڈنے والے ادھر آؤ آگے بڑھو، اور اے برائی (جہنم )ڈھونڈنے والے بس کر (پیچھے ہٹ جا ) ‘‘۔

معلوم ہوا کہ جب جنت کے دروازے کھولے اور جہنم کے دروازے بند کئے جاتے ہیں تو یہ پکارنے والا ، انسان کو اس عظیم موقع سے استفادہ کرنے کی طرف بلاتا ہے ، جنتی کو کہتا ہے کہ آگے بڑھ اور جھنمی کام کرنے والے کو کہتا ہے کہ بس کر اب اور آگے مت آ یہاں دروازہ بند ہے ۔ ماہ رمضان کے روزے سنہ دو ہجری میں فرض ہوئے، اور جن لوگوں پرماہ رمضان کا روزہ رکھنا فرض عین ہے وہ یہ ہیں

1۔ عقلمند و بالغ : لہذا مجنون اور نابالغ پر فرض نہیں کیوں کہ وہ دونوں مرفوع القلم ہیں لہذا جب تک کوئی مجنون ہو یا نابالغ ہو تو تب تک اس پر گناہ یا ثواب نہیں لکھا جاتا ، جیسا کہ علی رضي اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ عليہ و سلم) نے فرمایا: (( رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلا ثَۃٍ : عَنِ النَّاءِمِ حَتَّی یَسْتَیْقِظَ ، وَ عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّی یَحْتَلِمَ ، وَ عَنِ الْمَجْنُوْنِ حَتَّی یَعْقِلَ )) [سنن أبي داؤد: حدیث نمبر:4403، امام البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے]’’ تین(قسم کے اشخاص)سے قلم اٹھا لیا گیا ہے :سوئے ہوئے (شخص) سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے ، اور بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے ، اور مجنون سے یہاں تک کہاسے افاقہ ہو جائے ‘‘ اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ چھوٹے بچے اور مجنون پر تب تک روزہ فرض ہی نہیں ہے جب تک کہ بچہ بالغ نہ ہوجائے ،اور مجنون کو افاقہ نہ ہو جائے ۔

2۔ مقیم : رہی بات مسافر کی تو اس پر بھی حالتِ سفر میں روزہ فرض نہیں خواہ اسے سفر میں مشقت ہو یا آرام ہو ، البتہ شرعی عذر ختم ہو جانے کے بعد اسے چھوٹے ہوئے دنوں کی قضاء کرنا لازمی ہے ، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا : ( فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضاً أَوْ عَلَی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِنْ أَیَّامٍ أُخَرَ ) [البقرۃ : 184] ’’ پس جو تم میں سے مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ اور دنوں میں گنتی کو پورا کرلے ‘‘۔

3 ۔ صحت مند: رہی بات بیمار کی تو اسے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کا مرض کس قسم کا ہے ؟کیا اسے شفایاب ہونے کی امید ہے یا نہیں ہے ؟ اگر اسے شفایاب ہونے کی امید ہو تو چھوٹے ہوئے دنوں کی قضاء شفایابی کے بعد کرلے ، اور اگر شفایاب ہونے کی امید نہ ہو تو چھوٹے ہوئے دنوں میں سے ہر دن کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔

وہ عمر رسیدہ شخص جسے روزہ رکھنے کی معمولی سی طاقت ہو اور روزہ رکھنے سے اسے مشقت اور مزید کمزوری لاحق ہونے کا خدشہ ہو تو اسے روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے البتہ اسے ہر چھوٹے ہوئے دن کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہوگا جسے شرعاً ’’ فدیہ‘‘ کہتے ہیں ، جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے : ( وَ عَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طُعَامُ مِسْکِیْنٍ )[البقرۃ : 184] ’’اور وہ لوگ جو (بہ مشقت ) اس کی طاقت رکھتے ہوں (اس کے بدلہ ) ایک مسکین کو کھانا دیں ‘‘ اور ابن عباس رضي اللہ عنہ سے مروی ہے کہا : ’’ یہ آیت منسوخ نہیں ہے بلکہ اس سے وہ عمر رسیدہ مرد اور عورت مراد ہیں جو (بڑی مشقت کے بغیر )روزہ نہ رکھ سکیں ، تو وہی ہر دن کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں ‘‘ [صحیح البخاري : حدیث نمبر :4505] ایسے شخص کو اختیارہے کہ وہ کھانا پکا کر مساکین کو کھلا ئے یا سوکھا ہی ان کو دے دے ۔

وہ عورت جسے ایام ماہواری (حیض ) کی وجہ سے کچھ دنوں کا روزہ اور نماز چھوٹ گئی ہوگی تو اسے شرعی عذر ختم ہونے کے بعد غیرِ رمضان میں رمضان کے ان چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرنی ہے ، البتہ نماز کی قضا نہیں کرنی ہے ،جیسا کہ عائشہ رضي اللہ عنہا سے مروی ہے کہا : ((کَانَ یُصِیْبُنَا ذَلِکَ فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَ لا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلاۃِ ))[صحیح البخاري : حدیث نمبر 321 ، صحیح مسلم: حدیث نمبر :335 ، اور یہ مسلم کے الفاظ ہیں ] ’’ ہمیں یہ معاملہ پیش آتا تو ہمیں روزہ قضاء کرنے کا حکم دیا جاتا اور نماز کی قضاء کا حکم نہ دیا جاتا ‘‘ ۔ اسی طرح حاملہ یا دودھ پلانے والی خاتون کو اگر روزہ رکھنا باعثِ مشقت اور کمزوری ہو تو اسے رمضان کا روزہ مؤخر کرنے کی اجازت ہے اور یہ عذر ختم ہونے کے بعد اسے رمضان کے ان چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرنی ہے ۔

جن لوگوں کو چھوٹے ہوئے دنوں کا روزہ قضا ء کرنا ہے وہ اگلے رمضان تک کسی بھی دن قضاء کر سکتے ہیں جیساکہ عائشہرضي اللہ عنہاسے مروی ہے کہا : ((کَانَ یَکُوْنُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَّمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِیْعُ أَقْضِیَہُ إلاَّ فِيْ شَعْبَانَ )) [صحیح البخاري:حدیث نمبر:1950]’’ مجھ پر رمضان کے کچھ روزہ باقی ہوتے تو میں اگلے شعبان تک ان کی قضاء نہ کر سکتی تھی ‘‘ ، اور جس شخص پر قضاء واجب ہو اگر وہ یہ سوچ کرسردیوں میں ان روزوں کی قضاء کرے کہ اس وقت دن چھوٹے ہوتے ہیں اور پیاس لگنے کے امکانات بھی کم ہی ہوتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

4۔ مسلمان : اگر چہ کفار بھی شرعی احکام کے مخاطب ہیں اور ان کے ترک پر انہیں عذاب بھی ہوگا جیسا کہ اللہ تعالی نے ان کے بارے میں فرمایا : ( مَا سَلَقَکُمْ فِيْ سَقَرْo قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ )[المدثر : 43۔42]’’تمہیں کس چیز نے جہنم رسید کیا o وہ کہیں گے ہم نماز ادا کرنے والوں میں سے نہیں تھے ‘‘ پھر بھی اگر کافر کوئی عمل کرے تو اس کا وہ عمل شمار نہیں ہوگا ، اور اللہ اپنے وسیع فضل سے کافر کو دنیا میں ہی اس کی اچھائیوں کا بدلہ دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا : ( مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَھَا نُوَفِّ إلَیْھِمْ أَعْمَالَھُمْ فِیْھَا وَ ہُمْ فِیْھَا لا یُبْخَسُوْنَ )[ھود : 15]’’ جو شخص دنیاوی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہو ہم ان کو ان کے کل اعمال (کا بدلہ) یہیں بھر پور پہنچا دیتے ہیں اور اس میں ان کو کوئی کمی نہیں کی جائے گی ‘‘ اگر کوئی غیر مسلم اسلام قبول کرے تو اسلام قبول کرنے کے بعد اسے سابقہ روزوں یا نمازوں میں سے کسی بھی چیز کی قضاء نہیں کرنی ہے کیونکہ اسلام قبول کرنے سے سابقہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں جیسا کہ عمرو بن العاص رضي اللہ عنہسے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ عليہ و سلم) نے فرمایا : (( أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الإسْلامَ یَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ ،وَ أَنَّ الْہِجْرَۃَ یَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَھَا وَ أَنَّ الْحَجَّ یَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ ))[صحیح مسلم: حدیث نمبر :121 ]’’ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ اسلام قبول کرنا اس سے پہلے کے سارے گناہوں کو معاف کردیتا ہے ، اور ہجرت کرنا اس سے پہلے کے سارے گناہوں کو معاف کردیتا ہے، اور حج کرنا اس سے پہلے کے سارے گناہوں کو معاف کردیتا ہے‘‘ اسی طرح ابن مسعود رضي اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ عليہ و سلم) نے فرمایا : ((التَّاءِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لا ذَنْبَ لَہُ)) [ سنن ابن ماجۃ :حدیث نمبر: 4250، امام البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے ] ، ’’ گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا (گناہوں سے پاک)ہوتا ہے جس نے گناہ ہی نہ کئے ہوں ‘‘ لہذا نو مسلم، مہاجر ، حاجی اور گناہوں سے توبہ کئے ہوئے شخص کو قضاء عمری نماز یا روزہ کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ اھ 2013/07/ Thu.04 تحریر :

واپس