اہل سنت و جماعت

محترم پروفیسر ڈاکٹر عواد بن عبد اللہ المعتق نے اہل سنت و جماعت کے نام سے ایک تحقیقی مقالہ تیار کیا ہے جس کی اہمیت مد نظر رکھتے ہوئے میں نے اسے اردو زبان میں منتقل کیا ہے اور آج افادہ عام کی خاطر اس کتاب کے خاتمہ ( خلاصہ ) کا اردو ترجمہ یہاں پر قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں :

مؤلف نے لکھا ہے : 

اللہ کے نام سے ہم نے شروع کیا اور اسی کے حمد و شکر سے اختتام کیا ، اور ہم سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے آل و أصحاب پر درود و سلام بھیجتے ہیں ۔ أما بعد !

میں اس متواضع علمی تحقیق کو تحریر کر نے کے دوران کچھ اہم نتائج تک پہنچا ہو ں جن میں سے چند یہ ہیں :

اول : یہ کہ اللہ نے اپنی کتاب میں اور اپنے رسول کی زبان سے سنت اور جماعت کا حکم دیا اور بدعت اور تفرقہ بازی سے منع کیا ہے ۔

دوم : یہ کہ سابقہ امتوں کی طرح اس امت نے بھی اختلاف کیا ہے ، اور یہ کہ اس امت کا اختلاف عنقریب تہتر فرقوں تک پہنچے گا جو ایک کے سوا باقی سب جہنم میں جائیں گے۔ اور وہ ( جہنم سے بچنے والی جماعت ) وہی جماعت ہے جو اُسی طریقہ پر ہو گی جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ تھے ۔

سوم : یہ کہ اہل سنت و جماعت ہی اس خالص اسلام کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں جو ہر عیب سے پاک اور ہے ۔ 

چہارم : یہ کہ اہل سنت کا مذہب ہی صحابہ کرام کا مذہب ہے جسے انہوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا ہے ۔

پنجم : یہ کہ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کے طریقہ کو لازم پکڑا ان پر اہل سنت نامی اصطلاح کا اطلاق عہد صحابہ کے اخیر میں مشہور ہوا ۔

ششم : یہ کہ اہل سنت و جماعت کے کچھ پسندیدہ نام ہیں ۔ جیسے : اہل سنت و جماعت ، اہل سنت ، جماعت ، اہل جماعت ، سلف ، سلفی ، اہل الحدیث ، اہل اثر ، طائفہ منصورہ ، فر قہ ناجیہ ، اہل اتباع اور اہل حق ۔

اسی طرح ان کے کچھ ناپسندیدہ نام ہیں جو ان پر ان کے مخالفوں نے چسپاں کئے ہیں اور وہ اس لئے کہ یا تو وہ کسی ایسی سنت کے قائل ہیں جس کے بدعتی قائل نہیں ہیں ، یا دشمنی ، اور لوگوں کو ان سے بد ظن کر نے کی غرض سے لیکن اہل سنت کو اللہ کے فضل و کرم سے اس قسم کا کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا ۔

ہفتم : یہ کہ اسلامی عقیدہ کے اثبات میں اہل سنت کا منہج چند بنیادوں پر قائم ہے جن میں سے کچھ یہ ہیں : 

۱۔ کتاب اللہ اور صحیح احادیث پر اکتفا کر نا ، رہی بات اجماع کی جو کہ عقیدہ ثابت کر نے میں ان کے ہاں معتبر ہے تو وہ ایسا اجماع ہے جو قرآن و سنت پر یا ان میں سے ایک پر مبنی ہو ، اور عقل اور فطرت کو بحیثیتِ مؤید قبول کیا جائے گا بشرطیکہ وہ قرآن اور صحیح احادیث کے موافق ہوں ۔

۲۔ نقل( قرآن اور حدیث ) کو عقل پر مقدم کر نا ۔

۳۔ قرآن اور سنت صحیحہ گرچہ آحاد بھی ہو ، میں سے کسی بھی چیز کو رد نہ کر نا یا اس کی تحریف یا تاویل نہ کرنا۔

۴۔ اسی طریقہ کو لازم پکڑ نا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھے ، اور اسلامی معاملات میں بالعموم اور عقیدہ کے معاملات میں بالخصوص جو کچھ ان سے منقول ہے اس سب کو قبول کر نا اورانہیں( یعنی اقوال صحابہ کو ) ان کے بعد آنے والے لوگوں کے اقوال پر مقدم کر نا ۔

۵۔ غیب سے متعلق اعتقادی مسائل میں نہ گھسنا کیوں کہ ان میں عقل لڑانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

۶۔ اس مقصد کااہتمام کرنا جس کے لئے لوگوں کو پیدا کیا گیا ہے وہ ہے: عبادت کو حقیقی عبودیت کے منہج پرصرف رب العالمین کے لئے قائم رکھنا ۔

۷۔ اتباع و پیروی کر نا اور بدعات ایجاد کر نے سے پر ہیز کر نا ۔

۸۔ مسلمانوں کی اجتماعیت اور ان کے اتفاق و اتحاد کی تڑپ رکھنا ۔

ہشتم : یہ کہ اہل سنت نے صحیح عقیدہ بیان کر نے اور اس سے منحرف لوگوں پر رد کرنے کے لئے بہت ساری کتابیں تالیف کی ہیں : ان میں سے بعض میں صرف صحیح عقیدہ بیان کر نے پر اکتفا کیا ہے ، اور بعض میں صرف اس سے منحرف لوگوں پر رد کرنے پر اکتفا کیا ہے ، اور بعض میں ان دونوں طریقوں کو جمع کیا ۔ اور انہوں نے ان اصولوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی جن میں بدعتیوں نے اختلاف کیا ہے ۔

نہم : یہ کہ ائمہ اہل سنت نے عقیدہ کے بعض اُن مسائل میں جن میں بدعتیوں نے اختلاف کیا ہے صحیح عقیدہ کو غیر صحیح عقیدہ سے الگ کر نے کے لئے کچھ ضوابط مقرر کئے ہیں جنہیں ’’ اہل سنت کے اصول ‘‘ کہا جاتا ہے ، ان میں سے چند یہ ہیں :

۱ ، ۲ ۔ یہ کہ ایمان ، اعتقاد ، قول اور عمل ہے ، جو کہ فر مانبرداری سے بڑھ جاتا ہے اور نا فرمانی سے گھٹ جاتا ہے ۔

۳۔ ایمان باللہ میں سے یہ ہے کہ کتاب و سنت صحیحہ میں سے جو کچھ بھی اللہ کے اسماء و صفات میں سے آیا ہے اس کا اثبات کر نا ، اور اللہ کو تمام قسم کے عیبوں اور نقائص سے منزہ سمجھنا ۔ اور یہ اثبات بلا کسی تشبیہ یا تکییف کے ہو اور منزہ سمجھنا بغیر کسی تحریف یا تعطیل کے ہو ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا ہے: 

( لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ) ( ۲۶۹ ) 

’’ اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے وہ سننے اور دیکھنے والا ہے ‘‘۔

۴۔ یہ کہ اللہ کا کلا م نوعیت کے اعتبار سے قدیم اور انفرادی طور پر جدید ہے ، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے اور جس طرح چاہے کلام کر تا ہے ، اور یہ کہ قرآن مجید اللہ کا نازل کر دہ کلام ہے مخلوق نہیں ہے ۔ 

۵۔ اس پر ایمان لانا کہ مومن لوگ قیامت کے دن اپنی آنکھوں سے واضح طور پر اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے ، وہ اسے قیامت کے وسیع میدان میں دیکھیں گے پھر جنت میں داخل ہو نے کے بعد اسے اسی طرح دیکھیں گے جس طرح وہ ( اللہ ) پاک چاہے گا ۔ البتہ دنیاوی زندگی میں کوئی بھی شخص خواہ وہ نبی ہو یا کوئی اور اس ذات پاک کا دیدار نہیں کر سکتا ۔

۶۔ یہ کہ آخرت کے دن پر ایمان لانے میں یہ شامل ہے کہ : قیامت صغریٰ اور قیامت کبریٰ سے پہلے واقع ہو نے والی تمام چیزوں(قیامت کی نشانیوں ) پر اور ان سب باتوں پر ایمان لایا جائے جن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ انسان کی موت سے لیکر انسان کے جنت یا جہنم میں جگہ پانے تک کیا کچھ ( یعنی قبر ، برزخ اور محشر کے حالات میں سے ) پیش آئے گا ۔ 

۷۔ وعدہ اور وعید پر ایمان لانا : اور یہ کہ جب اللہ اپنے بندوں کو کسی چیز کا وعدہ کرے تو وعدہ کا پاس و لحاظ کر نے کی وجہ سے اسے پورا کر نا اللہ پر واجب ہے نہ کہ اس لئے کہ اللہ پر کسی کا حق ہے ۔

رہی بات وعید کی : پس اگر وہ ایسے گناہ کبیرہ کے مرتکب کے لئے ہو جو (گناہ ) شرک سے کم ہو ، اور اس کے انجام دینے والے نے اس سے توبہ نہ کی ہو ، اور اس کے پاس نیکیاں بھی نہ ہوں جو اس کی برائیوں کو مٹا دیتیں ، تو وہ اللہ کی مشیئت کے تحت ہے اگر اللہ چاہے تو اسے معاف کرے گا اور اگر چاہے تو بقدر گناہ اسے عذاب دے گا اور پھر اسے جہنم سے نکالے گا لہذا وہ ہمیشہ جہنم میں نہیں ر ہے گا ۔

۲۶۹ ) سورۃ الشوری / ۱۱ اور اگر وعید کا فر کے لئے ہو : تو وہ اپنے عموم پر محمول ہو گا ، چونکہ وہ جہنم میں داخل ہو گا اور ہمیشہ اسی میں رہے گا ۔

۸۔ یہ کہ تقدیر پر ایمان لانے میں اس بات پر ایمان لانا شامل ہے کہ : دنیا میں جو کچھ بھی ہو گا وہ اللہ نے ازل سے ہی جان لیا ہے ، اور جو کچھ بھی ہو نے والا ہے وہ اس نے لوح محفوظ میں لکھ کر رکھا ہے ، اور یہ کہ جو کچھ اللہ چاہے گا وہی انجام پا ئے گا اور جو اللہ نہیں چاہے گا وہ کبھی نہیں ہو گا ، اور یہ کہ وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے ، اور یہ کہ بندہ طاقت، ارادہ ، عمل اور اختیار رکھتا ہے ، اور اللہ ہی بندہ کو پیدا کر نے والااور اس کی طاقت، ارادہ ، عمل اور اس کے اختیار کو پیدا کر نے والا ہے ، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو فر مانبرداری کا حکم دیا اور انہیں نا فر مانی سے منع کیا ہے اور ان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ تقدیر کو حجت بنا کر فر مانبرادوری سے رک جائیں ، جس طرح کہ نا فر مانی انجام دینے پر تقدیر سے استدلال کر نا جائز نہیں ہے ۔

۹۔ یہ کہ اولیاء میں سے کسی بھی ایک کو انبیاء میں سے کسی بھی ایک پر فضیلت نہیں دی جائے گی، اور یہ کہ اولیاء کی کرامات کی تصدیق کی جائے گی ، اور یہ کہ ہر خارقِ عادت کو کرامت تصور نہیں کیا جائے گا ۔

۱۰۔ یہ کہ امر با لمعروف اور نہی عن المنکر ۔ حسب استطاعت ۔ تلوار کے استعمال کے بغیر ہاتھ سے کرے ، پس اگر ایسا نہ کرسکے تو زبان سے کر لے ، اور اگر ایسا بھی نہ کر سکے تو دل سے کرے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے ۔

۱۱۔ جماعت کو لازم پکڑنا ، مسلمان حاکم کی اطاعت کر نا جب تک کہ وہ نا فر مانی کا حکم نہ دیں ، اور تب تک ان کے خلاف جنگ کر نا چھوڑ دینا جب تک وہ نماز قائم رکھنے والوں میں سے ہوں ۔

۱۲۔ اہل قبلہ میں سے اس شخص کے خلاف لڑنا جو شریعتِ اسلامیہ سے خارج ہو جائے اگر چہ اس نے شہادتین بھی ادا کیں ہو ں اور اسلام کے بعض فرائض بھی انجام دئے ہوں ۔

۱۳۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی محبت کر نا اور فضیلت میں انہیں اسی ترتیب کے موافق رکھنا جو نصوص میں آئی ہے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے ساتھ ۔ بغیر کسی افراط اور تفریط کے ۔ محبت کرنا اور ان کے بارے میں نیک گمان رکھنا ، اور جو کچھ صحابہ کے درمیان پیش آیا اس سے خاموش رہنا ، اور یہ کہنا کہ انہیں عذر ہے ، کیونکہ وہ مجتہد ہیں ۔

دہم : یہ کہ اہل سنت کی بہت سی خصوصیات ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔ عقیدہ کے مسائل میں ہر ایک مسئلہ میں قرآن اور سنتِ صحیحہ کو لازم پکڑنا ، اور ان میں سے کسی بھی چیز کو رد نہ کر نا اور نہ اس کی تحریف یا تاویل کر نا ، اور انہیں عقل پر مقدم کر نا ۔

۲۔ خالص اسلام کو مضبوطی سے تھام لینا ۔

۳۔ دین میں بدعات ایجاد نہ کر نا ، اور بدعتوں اور بدعتیوں سے لوگوں کوخبردار کرنا ۔

۴۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا ان کا کوئی ایسا امام نہیں ہے جس کی ہر بات وہ قبول کرتے ہوں، اور ان کے علاوہ جو بھی کوئی ہے تو اس کے کلام میں سے جو کچھ کتاب و سنت کے موافق ہو تا ہے اسے قبول کیا جاتاہے اور جو ان دونوں کے یا ان میں سے ایک کے مخالف ہو تا ہے تو اسے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔

۵۔ یہ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و احوال کے بارے میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ علم رکھتے ہیں ۔

۶۔ مکان و زمان کے مختلف ہونے کے باوجود عقیدہ کے امور میں ان کا متفق ہو نا ۔

۷۔ دین اسلام کے تمام مسائل میں وسطیت اختیار کر ناجیسے :

اسماء و صفات میں اہل تعطیل اور اہل تمثیل کے درمیان ، تقدیر کے بارے میں جبریہ اور قدریہ کے درمیان ، اسماء و احکام اور وعد ہ و وعید میں وعیدیہ اور مرجءۃ کے درمیان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے بارے میں غالیہ( غلو کرنے والوں) اور جافیہ ( بدسلوکی کرنے والوں )کے درمیان ان کا وسطیت پر ہو نا اس کی مثالوں میں سے ہے ۔

۸۔ وہ ایک دوسرے کو کافر قرار نہیں دیتے ۔

۹۔ اسلام ، سنت اور جماعت کے علاوہ وہ کسی اور نام سے موسوم نہیں ہیں ۔

۱۰۔ یہ کہ جب لوگ فساد کا شکار ہو جائیں گے تو یہ اس وقت اجنبی ہو ں گے ۔

۱۱۔ یہ کہ وہی فر قہ ناجیہ اور قیامت تک مدد کی جانے والی جماعت ’’ طائفۃ منصورۃ ‘‘ ہیں ۔

۱۲۔ پوری امت کا ان کی تعظیم کر نا ۔

۱۳۔ تسلسل کے ساتھ باقی رہنا ۔

۱۴۔ ان کا حق پر ثابت قدم رہنا ، جیسا کہ اپنے اقوال اور عقائد پر ڈٹے رہنے میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ صبر کر نے والے ہیں ۔

۱۵۔ فتویٰ صادر کر نے سے ان کاتورع ( پر ہیز) کر نا ۔

۱۶۔ علمی امانت داری ۔

۱۷۔ دین کے بارے میں لڑائی جھگڑا ، بحث و مباحثہ ترک کر نا اور ایسا کر نے والوں سے دوررہنا ۔

۱۸۔ یہ کہ وہ امت کے سب سے اچھے لوگوں میں سے ہیں جو سنت کو زندہ کرنے اوربدعات کو ختم کر نے کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔

۱۹۔ سلف کے ساتھ محبت کرنا ، ان کی تعظیم کر نا ، اور ان کے طریقہ کی پیروی کر نا ۔

۲۰۔ نیک اور استقامت والے لوگ اورفی سبیل اللہ جدو جہد کر نے والے لوگ دوسروں کی بنسبت ان میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔

۲۱۔ علم اور عبادت کے درمیان ، توکل اور اسباب اختیار کر نے کے درمیان ، دنیا کمانے اور اس سے بے رغبت ہونے کے درمیان ، خوف اور محبت و رجاء کے درمیان ، نرمی اور سختی کے درمیان اور عقل اور جذبات کے درمیان جمع کر نا ۔ و اللہ أعلم 

وصلی اللہ علی سید نا محمد و آلہ و صحبہ و سلم

                                              ترجمہ

                                        مبشر احسن وانی

                                     ہیر پورہ شوپیان کشمیر الھند

                                  رابطہ نمبر : 9906885410

                                تاریخ : 15 - 7 -2013 بروز پیر

واپس